علمی و فکری
دشمن کو دوست بنانے کی نبوی حکمت
انسانی تاریخ میں ایسے رہنما و قائد بہت کم ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمات سے دلوں کو بدل دیا ہو۔ اپنی تقاریر سے لوگوں کے دلوں میں رحم دلی پیدا کردی ہو اپنے خطاب وبیان سے لوگوں کے دلوں کی عداوت کو محبت میں تبدیل کردیا ہو اس باب میں حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ اقدس ان عظیم ہستیوں میں سب سے اعلیٰ و ارفع ہے، جنہوں نے دشمنوں کو دوست بنانے کی ایسی حکمت عملی اپنائی جو ہمیشہ کے لیے ایک کامل نمونہ بن گئی۔
نبی ﷺ نے نہ صرف دشمنوں کے شر کو خیر سے جواب دیا بلکہ اُن کے دلوں کو محبت، اخلاق اور عفو و درگزر سے مسخر کر لیا۔ آپ ﷺ کا یہ انداز سراسر قرآن کی تعلیمات اور وحی الٰہی کے مطابق تھا۔
قرآن مجید میں اللہ وحدہ لاشریک ارشاد فرماتا ہے:
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ"(سورۃ حم سجدہ: 34)
ترجمہ: "برائی کو بھلائی کے طریقے سے ٹال ، جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔۔"
اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ تم برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو مثلاً غصے کو صبر سے ، لوگوں کی جہالت کو حِلم سے اور بدسلوکی کو عَفْوْ و درگُزر سے کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تواسے معاف کر دے، تو اس خصلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح تجھ سے محبت کرنے لگیں گے ۔
اس آیت کریمہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کی شدید عداوت کے باوجود نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے ساتھ نیک سلوک کیا اور ان کی صاحبزادی کو اپنی زَوجیَّت کا شرف عطا فرمایا ،تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سفیان تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سچے محبت کرنے والے اور آپ کے جاں نثار صحابی بن گئے۔( جلالین، فصلت، ص ٣٩٩)
یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی کا آئینہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ بدسلوکی کا جواب حسنِ سلوک سے دیا، حتیٰ کہ سخت دشمن بھی آپ کے مداح بن گئے۔
حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک اَخلاق میں برائی کو بھلائی سے ٹال دینے کی انتہائی عالی شان مثالیں موجود ہیں ،ان میں سے یہاں دو واقعات ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت عبداللہ بن عبید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :جب (غزوہِ اُحد میں ) رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے والے مبارک دانت شہید ہوئے اور آپ کا چہرہِ انور لہو لہان ہو گیا تو عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں کے خلاف دعا فرمائیں ۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (کمال صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے طعنے دینے والا اور لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے دعوت دینے والا اور رحمت فرمانے والا بنا کر بھیجا ہے، (پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی) اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میری قوم کو (دین ِاسلام کی) ہدایت دے کیونکہ وہ مجھے جانتے نہیں ۔
حضرت علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس حدیث ِپاک پر غور کرو کہ اس میں کس قدر فضیلت، درجات، احسان، حسنِ خُلق،بے انتہا صبر اور حِلم جیسے اَوصاف جمع ہیں کیونکہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صرف ان سے خاموشی اختیار کرنے پر ہی اِکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان (زخم دینے والوں ) کو معاف بھی فرما دیا،پھر شفقت و محبت فرماتے ہوئے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ان کو ہدایت دے ،پھر اس شفقت و رحمت کا سبب بھی بیان فرمادیا کہ یہ میری قوم ہے ،پھر ان کی طرف سے عذر بیان فر ما دیا کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔(الشفا، ص۱۰۶، )
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں ایک مرتبہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے مو ٹے تھے،اتنے میں ایک اَعرابی ملا اور اس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا یہاں تک کہ میں نے حضور ِاَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کندھے پر زور سے چادر کھینچے جانے کی وجہ سے رگڑ کا نشان دیکھا۔ اس اَعرابی نے کہا :اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللہ تعالیٰ نے جو مال آپ کو دیا ہے وہ میرے ان اونٹوں پر لاد دو کیونکہ آپ نہ مجھے اپنے مال سے دیتے ہیں اور نہ ہی اپنے والد کے مال سے دیتے ہیں ۔سیّد العالَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاموش رہے اور صرف اتنا فرمایا کہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہی ہے اور میں تو ا س کا بندہ ہوں ،پھر ارشاد فرمایا کہ اے اَعرابی:کیا تم سے اس کا بدلہ لیا جائے جو تم نے میرے ساتھ سلوک کیا ؟اس نے عرض کی :نہیں ۔ارشاد فرمایا ’’کیوں نہیں ؟اَعرابی نے عرض کی :کیونکہ آپ کی یہ عادتِ کریمہ ہی نہیں کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے لیں ۔اس کی یہ بات سن کر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسکرا دئیے اور ارشاد فرمایا: ’’اس کے ایک اونٹ کو جَو سے اور دوسرے کوکھجور سے بھر دو۔( بخاری، کتاب الادب ،)
اس آیت اور احادیث رسول سے معلوم ہوا کہ دین ِاسلام میں مسلمانوں کو اَخلاقیات کی انتہائی اعلیٰ،جامع اور شاہکار تعلیم دی گئی ہے کہ برائی کو بھلائی سے ٹال دو جیسے کسی کی طرف سے تکلیف پہنچنے تو اس پر صبر کرو ،کوئی جہالت اور بیوقوفی کا برتاؤ کرے تواس پر حِلم و بُردباری کا مظاہرہ کرواوراپنے ساتھ بد سلوکی ہونے پر عَفْوْ و درگُزر سے کام لو ۔
نبی کریم صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کس قدر مظاہرہ فرمایا ہے ۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِين
ترجمہ: تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔
یہی نرمی، درگزر اور حکمت رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مرکز رہا۔
سیرتِ رسول ﷺ کی عظیم مثالیں
طائف کا واقعہ:
جب نبی ﷺ اہلِ طائف کو دعوتِ اسلام دینے گئے تو انہوں نے آپ پر پتھر برسائے۔ آپ لہو لہان ہو گئے۔ فرشتہ حاضر ہوا اور عرض کیا: اگر آپ کہیں تو یہ قوم ہلاک کر دی جائے۔ مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
نہیں! میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی نسل میں ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائیں گے۔"
یہ تھا دشمن کو دوست بنانے کا اولین سبق — صبر، حلم اور نرمی۔ اس باب کا حصہ ہے
. حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا، اور فتح مکہ
جب نبی ﷺ مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے، وہی لوگ جو آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے، آج آپ کے رحم و کرم پر تھے۔ مگر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا:جاؤ! تم سب آزاد ہو۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔"
(مفہوم حدیث بخاری شریف)
یہ عظیم معافی دشمنی کو محبت میں بدلنے کا سب سے بلند ترین نمونہ ہے۔ اور اس باب کا حصہ صلح حدیبیہ بھی ہے ۔
صلح حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے لیے کمزور پوزیشن کا معاہدہ تھا، مگر نبی ﷺ کی حکمت نے ثابت کیا کہ نرمی، وقت کی پہچان اور درگزر دشمنوں کو قائل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دو سال میں ہزاروں لوگ اسلام لے آئے۔
ان تمام روایات سے پتہ چلا نرمی ایک بہتریں عمل اور باعث برکت ہے چنانچہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا:
إنَّ الرِّفقَ لا يكونُ في شيءٍ إلَّا زانَهُ، ولا يُنزعُ من شيءٍ إلَّا شانَهُ"
(صحیح مسلم حدیث ٢٥٩٤)
ترجمہ:” نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس سے نرمی نکال لی جائے وہ بد صورت ہو جاتی ہے”
اس لئے ہمیں نرمی اختیار کرنی چاہیے اور اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنی چاہیے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنا چاہتے یہی زندگی کی کامیابی اور مقبولیت ہے ،
رسول اکرم ﷺ نے دشمنوں کو دوست بنانے کی جو حکمت اپنائی، وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ ﷺ نے صرف زبان سے نہیں، بلکہ عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ محبت، عفو، اور حلم سے دشمن کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ آج اگر ہم امت مسلمہ کی حیثیت سے آپ ﷺ کی ان صفات کو اپنالیں، تو نہ صرف اپنے دشمنوں کو دوست بنا سکتے ہیں، بلکہ دنیا میں امن، بھائی چارے اور عدل کی فضا قائم کر سکتے ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عظیم عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم
از: ظفر علی مصباحی
متعلم جامعۃ الأزہر الشریف قاہرہ (مصر)