بزرگان دین کے اوقات میں برکت
ُ۔ امیر المؤمنین فی الحدیث، حضرت امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت حافظہ، برق رفتار مطالعے اور دیگر بے شمار علمی نعمتوں سے نوازا تھا۔ آپ کی سرعتِ مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے صحیح بخاری کو صرف دس مجالس میں مکمل پڑھ لیا، جب کہ ہر مجلس کا دورانیہ نماز ظہر سے نماز عصر تک ہوتا تھا۔ اسی طرح آپ نے صحیح مسلم کو محض پانچ مجالس میں پڑھ لیا تھا۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تیز رفتار مطالعے کا ایک نہایت حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ملکِ شام کے سفر کے دوران امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب المعجم الصغیر کا مکمل مطالعہ نمازِ ظہر اور نمازِ عصر کے درمیان ایک ہی مجلس میں کر لیا تھا۔
اسی سفر کے دوران آپ تقریباً دو ماہ اور دس دن دمشق میں مقیم رہے۔ اس مختصر مدت میں آپ نے مختلف کتابوں کی سو جلدوں کا مطالعہ کیا اور دورانِ مطالعہ اہم مقامات پر علمی و ضروری حواشی بھی قلم بند فرمائے، اللہ اکبر کبیرا(مقدمہ شرح نخبۃ الفکر، ص: ۱۳، مکتبۃ البشری)
بزرگانِ دین کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کس قدر برکت عطا فرماتا تھا کہ وہ سفر کی صعوبتوں کے باوجود مختصر وقت میں سیکڑوں جلدوں کا مطالعہ کر لیتے تھے، ان کی زندگیاں علم سے غیر معمولی شغف، وقت کی قدر اور محنت کی بہترین مثالیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے اوقات کی قدر کرنے، علمِ نافع حاصل کرنے اور بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
✍️محمد عادل حمزہ ازہری
۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶