قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ
(سورۃ یوسف: 86)
میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اللہ کے حضور کرتا ہوں
یہ کلمات نہ صرف صبر کی اعلیٰ مثال ہیں، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ کے بندے کی مشکلات میں کس طرح رجوع ہونا چاہیے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دکھ یا غم محسوس نہ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی تکلیف اور پریشانی کا انحصار ہمیشہ اللہ پر رکھیں۔ انسان کو اپنے دکھوں کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے کرنا ضروری نہیں، کیوں کہ اللہ جانتا ہے، سمجھتا ہے اور ہر حال میں ساتھ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شکوہ انسان سے نہیں بلکہ رب کی بارگاہ میں ہونا چاہیے۔ دل کے اندر چھپی تکلیف، غم اور اضطراب کو اللہ سے چھپانے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ صبر کا حسن یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کے درد کو اللہ کے سپرد کریں، اور اس میں استقامت اختیار کریں، بے غیر یہ سوچے کہ کوئی انسان ہمارے دکھ کو سمجھے یا نہ سمجھے۔
اس عظیم سبق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صبر میں اللہ کی جانب رجوع سب سے عظیم قوت ہے، اور یہی صبر کے اندر حقیقی سکون اور ایمان کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔