عدنان: کیوں؟ آج پھر کسی نے پریشان کیا؟
سائرہ: جی۔ دفتر میں ایک بات کہنے گئی تھی کہ سر، گھر کا خرچ مشکل سے چل رہا ہے۔ تو وہ بجائے مدد کے عجیب مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: آپ چاہیں تو۔ کچھ سہولت دے سکتا ہوں۔
یہ ’’سہولت‘‘ لفظ مجھے اندر تک ہلا گیا۔
عدنان: افسوس۔ یہ المیہ صرف آپ کے ساتھ نہیں، معاشرے کا بڑا زخم ہے۔ ایک مجبور عورت کو اکثر آکسیجن کے بجائے دھوکا دیا جاتا ہے۔
سائرہ: بیوہ ہو، طلاق ہو، یا تنہائی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت کمزور ہے، سہارا ڈھونڈ رہی ہے، تو اسے کسی بہکاوے میں لانا آسان ہے۔
عدنان: قرآن نے تو فرمایا: وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ لوگوں کے حقوق نہ گھٹاؤ۔
مگر یہاں تو بے سہارا عورت کا سب سے زیادہ حق لوٹا جاتا ہے۔ اسے مشورہ نہیں، سودا سمجھا جاتا ہے۔
سائرہ: سچ ہے۔ کسی سے رہنمائی مانگو تو بدگمانی کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ لوگ کردار پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ جیسے عورت مدد مانگے تو مطلب یہی ہوگا کہ وہ کمزور ہے۔ یا اپنی عزت گروی رکھ دے گی۔
عدنان: ہمارے ملک میں مسئلہ عورت کا نہیں، نیتوں کا ہے۔ مرد ہو یا عورت۔جب دل سے خوفِ خدا اٹھ جائے تو رشتے، الفاظ، اعتماد۔سب سستا ہو جاتا ہے۔
سائرہ: کبھی کبھی لگتا ہے معاشرہ بدلے گا بھی یا نہیں؟
عدنان: بدلے گا، سائرہ۔ جب تک ایک شخص بھی انصاف سے بات کرے، پاک نیت رکھے، اور کمزور کے لیے ڈھال بنے۔امید زندہ رہے گی۔ اور شاید یہی تبدیلی کا پہلا چراغ ہو۔